سری نگر ، 21؍جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے شہر سے شائع ہونے والے اخبارات کے ایڈیٹروں اور مالکان سے ملاقات کرنے اور میڈیا پر پابندیوں کو لے کر افسوس کا اظہار کئے جانے کے ایک دن بعد کشمیر وادی میں آج پانچ دنوں کے بعد مقامی اخبارات کی اشاعت دوبارہ شروع ہو گئی ۔حکومت کی طرف سے پابندی لگائے گئے اخبارات سمیت زیادہ تر مقامی اخبارات آج شائع ہوئے۔ساتھ ہی اخبار وں کے ڈسٹری بیوٹر اور ہاکر اپنے کاموں پر واپس گئے۔اخبار کے ایک ڈسٹر ی بیوٹر نے یہاں بتایاکہ یہ اچھا ہے کہ اخبارات کی اشاعت دوبارہ شروع ہو گئی ۔ہم نہ صرف تجارتی نقطہ نظر سے خوش ہیں بلکہ اس سے وادی کی حقائق پر مبنی صورت حال کا بھی علم ہو گا جہاں پر افواہوں کا بازار گرم ہے۔پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر کچھ پرنٹنگ اداروں پر چھاپے ماری اور اخبارات کو ضبط کرنے کے ساتھ ہی پرنٹنگ پریس کے ملازمین کو حراست میں لئے جانے کے واقعہ کے بعد ہفتے کے روز سے وادی میں انگریزی، اردو یا کشمیری کسی بھی زبان میں اخبارات کی اشاعت نہیں ہو رہی تھی ۔پولیس کی کارروائی کے بعد، کشمیرسے شائع ہونے والے اخبارات کے ایڈیٹروں ، پرنٹر اور پبلشروں نے ہفتہ کو ایک میٹنگ کی تھی جس میں انہوں نے حکومت کی طرف سے پابندی نہیں ہٹانے اور معافی نہیں مانگنے تک اپنی اشاعت بند رکھنے کا فیصلہ کیاتھا ۔صحافیوں نے پابندی کے خلاف ایک مظاہرے کا بھی اہتمام کیا تھا اور اسے پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنا کام بند کر دیا تھا۔تاہم، منگل کو حکومت نے دعوی کیا تھا کہ اخبارات کی پرنٹنگ اور اشاعت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔